Click here to try again.
Free SMS فری ایس ایم ایس
مسلم لیگ ن کی حکومت پانچ سالوں میں انرجی بحران ختم کردیگی،شاہدخاقان عباسی،ایل این جی منصوبے کے تحت گیس بحران ختم ہوجائیگا،نجی ٹی وی سے گفتگو:
| Click to edit table header |
|
کراچی، گورنر اسٹیٹ بینک پریس کانفرنس میں زری پالیسی کا اعلان کر رہے ہیں |
اگرچہ حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا ہے لیکن اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف نے بڑی بے صبری کا مظاہری کیا ہے۔ وہ عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دے کر ایکسپوز ہوگئی ہے
2013ء اپنے پیچھے تلخ و شیریں یادیں چھوڑ گیا ہے۔ اور 2014ء کا سورج نئی امیدوں کیساتھ طلوع ہوا ہے۔ 2013ء پاکستان میں تبدیلیوں کا سال تھا۔ عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ اگر چہ تحریک انصاف نے انتخابات میں 76لاکھ ووٹ حاصل کئے لیکن وہ پیپلز پارٹی سے زائد نشستیں حاصل نہ کرسکی۔ اپوزیشن کی کسی جماعت نے تحریک انساف کو اپوزیشن لیڈر کا منصب حاصل نہ کرنے دیا اور خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ سید خورشید شاہ میثاق جمہوریت کے تحت قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چئیرمین بھی منتخب ہوگئے۔ اس لحاظ سے تحریک انصاف گھاٹے میں رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان شروع دن سے فاصلے پائے جاتے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے ”ہاڈ لائن“ اختیار کرنے پر اپوزیشن کی یہ دونوں جماعتیں کبھی کبھی ایک ” صفحہ“ پر بھی نظر آتی ہیں۔ قومی اسمبلی میں ان دونوں جماعتوں نے مل کر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ریمارکس کیخلاف کارروائی کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔ اگرچہ حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا ہے لیکن اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف نے بڑی بے صبری کا مظاہری کیا ہے۔ وہ عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دے کر ایکسپوز ہوگئی ہے۔ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ عوام حکومت کے ” سخت فیصلوں“ کی وجہ سے ” نالاں “ ہیں لیکن ان کی موجودہ حکومت سے امیدیں ابھی نہیں ٹوٹیں اور وہ اسے کچھ کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں ۔ تحریک انصاف نے مہنگائی کیخلاف لاہور کے مال روڈ پر ریلی تو نکالی لیکن یہ شو متاثر کن نہیں تھا۔ 2013ء کے اواخر میں پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کسی حد تک حکومت کیلئے پریشان کن صورتحال پیدا کرسکی ہے لیکن پارلیمنٹ سے باہر حکومت پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ شاید تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے کی جلدی ہے اور وہ 2014ء کو مڈ ٹرم الیکشن کا سال قرار دے رہی ہے لیکن پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کر کے تحریک انصاف کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔
جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے، وہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ حکومت لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہے لیکن سبسڈی ختم کرنے پر عوام نالاں ہیں۔ اسی طرح گیس کی بھی بدستور قلت ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ مہنگائی میں بھی بے پنا اضافہ ہوا ہے۔ جب میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ڈالر 98روپے کا تھا ۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنی اور زرمبادلہ کے ذخائر 4ڈالر ارب رہ گئے تو ڈالر کی قیمت 110روپے تک جاپہنچی لیکن آی ایم ایف کے سامنے کشکول پھیلانے اور حکومتی اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر قدرے بہتر ہوگئے ہیں۔ 2013ء حکومتی ترغیبات سے ٹیکسوں کی وصولی میں بھی بہتری آئی ہے لیکن وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے وقت جن اقدامات کا اعلان کیا تھا اس پر وہ عملدرآمد نہیں کراسکے۔ جنرل کیانی کی ریٹارئرمنٹ کے بعد جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف اور ننرل راشد محمود کو چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف بنا دی گیا ہے۔ 12دسمبر 2013ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی ریٹائر ہوگئے اور انکی جگہ چیف جسٹس تصدق جیلانی نے لی ہے۔ افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدلیہ میں ایک سنہری باب کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 2013ء کے اواخر تک وزیر اعظم نواز شریف پھونک پھونک کر قدر رکھتے رہے ہیں۔ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے ایشو پر خاصے پریشان تھے، تاہم 2014ء میں میاں نواز شریف ایک ” طاقتور چیف ایگزیکٹو“ بن کر ابھریں گے ۔ اب جنوری میں 30سے زائد اداروں کے سربراہوں کی تقرری ہوگی۔ وزیر اعظم آسانی سے اہم سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں اہل افراد کی تقرری کر سکیں گے۔ قانون سازی کے میدان میں حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور پچھلے سات ماہ میں مالیاتی بل کے سوا کوئی قانون سازی نہیں ہوئی۔ دونوں ایوانوں میں پالیمنٹیرینز کی حاضری مایوس کن رہی ہے۔ حکومتی اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ارکان کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ حکومت کو کئی بار کورم ٹوٹنے پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیر اعظم بھی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کیلئے پارلیمنٹ میں کوئی کشش نہیں جس پر اپوزیشن نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر وزیراعظم پارلیمنٹ میں نہ آئے تو ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دے گی۔ وزیر اعظم قومی اسمبلی کے سات سیشنز میں صرف تین چار بارہی آئے جبکہ سات ماہ گزرنے کے باوجود انہوں نے سینیٹ کا رخ نہیں کیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن نے چوہدری نثار علی خان کے طرز عمل کیخلاف ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کئے رکھا۔ خدا خدا کر کے اپوزیشن ایوان میں واپس آئی تو اپوزیشن نے چوہدری نثار علی خان کو ایک بار پھر ٹارگٹ بنا کر ایوان کا بائیکاٹ کردیا۔ ساتویں سیشن کے اختتام تک اپوزیشن نے بائیکاٹ ختم نہیں کیا اور وہ مصر ہے کہ جب تک چوہدری نثار ” تماشہ“ کے الفاظ واپس نہیں لیتے بائیکاٹ ختم نہیں ہوگا۔ اس لئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے سدمیان تعلقات کار اچھے نہیں ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتی جو جمہوری نظام کو عدم استحکام کا شکار کردے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی تمام تر اختلافات کے باوجود ” نواز شریف قدم بڑھاوٴہم تمہارے ساتھ ہیں “ کا نعرہ لگا رہی ہے۔ 2014ء کے اوائل میں وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنی کابینہ میں توسیع کریں گے۔ بقیہ محکموں کے پارلیمانی سیکرٹریوں کی تقرری بھی عمل میں لائی جائے گی اور قومی اسمبلی کی اجلاس قائم کے چئیر مینوں کا انتخاب ہوگا۔ نیا سال حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا سال بھی ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کسی حد تک ” گڈ گورننس“ قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے حکومت کے پاس 2014ء کا پورا سال موجود ہے۔
’غداری‘ یا آئین شکنی تشریح کرنا عدالت کا کام
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اپنے کلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت زیر سماعت مقدمہ میں پیشی کے لئے آتے ہوئے ”علالت“ کے باعث اچانک آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جا پہنچے۔ بظاہر وفاقی حکومت کیلئے اسے پریشان کن صورتحال قرار دیا جاسکتاہے لیکن حکومت کے ترجمان شروع دن سے ہی جنرل (ر) مشرف کے خلاف اس مقدمے کے بارے میں واضح مئوقف رکھتے ہیں کہ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کیلئے خصوصی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے۔ حکومتی ادارے آئین اور قانون کی رو سے ٹربیونل کیلئے ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ دوری طرف جنرل (ر) مشرف کو ”غداری کے مقدمہ“ میں ممکنہ سزا سے بچانے کیلئے ان کی سابق اتحادی جماعتیں پاکستا ن مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئی ہیں اور سیاسی محاذ پر ان کا دفاع کررہی ہیں۔ اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی بالواسطہ طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف کو ایمر جنسی کے غیر آئینی اقدام پر ٹرائل سے بچانے کیلئے 3نومبر 2007ء کی بجائے 12اکتوبر 1999ء کو مارشل لاء کے اقدام پر کارروائی کا مطابلہ کر کے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح جہاں وہ جنرل مشرف کے ساتھی جرنیلوں کے ساتھ سابق چیف جسٹس کو ” کورٹ آف لاء“ میں کھڑا دیکھنا چاہتی ہے وہیں وہ مسلم لیگی حکومت کو ایک ایسی دلدل میں دھکیلنا چاہتی ہے جہاں سے اس کا نکلنا مشکل ہوجائے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران جنرل (ر) مشرف کی خصوصی عدالت مین پیشی کو مئوخر کرنے کیلئے مختلف بہانے تراشے جاتے رہے ان کے گھر کے قریب سے بارودی مواد برآمد ہونے پر ان کی پیشی پر حاضری مئوخر ہوتی رہی بالآخر جب خصوصی عدالت نے جنرل پرویز مشرف کو ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا تو وہ گھر سے خصوصی عدالت میں پیشی پر پہنچنے کی بجائے ” عارضہ قلب “ میں مبتلا ہو کر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جا پہنچے۔ اب وہ گزشتہ ہفتے سے اسی انسٹی ٹیوٹ آف کاڈیالوجی میں زیر علاج ہیں۔جہاں ان سے کسی شخص حتیٰ کہ انکے وکلاء کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں۔ خصوص عدلت کے حکم پر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے انکے بارے میں میڈیکل رپورٹ پیش کردی ہے جس میں جنرل مشرف کو ” مجموعہ عوارض“‘ قرار دیا گیا ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں جنرل مشرف کو لاحق 9امراض کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جس میں انکے دل کی ایک شریان بھی بند بتائی گئی ہے۔ سردست جنرل مشرف کو عدالت میں حاضری سے استثناء دیدیا گیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے جنرل (ر) پرویز مشرف کو فارم ہاؤس سے خصوصی عدالت میں پیش کرنیکی بجائے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لیجانے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ جب ان کے قافلے کا رخ خصوصی عدالت کی بجائے اے ایف آئی سی کی طرف کیا گیاتو اس وقت اسلام آباد پولیس کی بے بسی دیدنی تھی۔ دراصل جنرل مشرف نے اپنے گھر سے نکل کر اے ایف آئی سی میں ”پناہ“ لے لی ہے۔ جہاں وہ عملاََ فوج کی تحویل میں ہیں جہاں سول حکومت کی ان تک رسائی نہیں۔ اے ایف آئی سی میں انکے براجمان ہوجانے پر سیاسی حلقوں میں دلچسپ تبصرے کئے جارہے ہیں۔ اے این پی کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ جنرل مشرف میں سیاسی کارکن جتنی بھی ہمت نہیں ۔ ایک آمر اور سیاست دان میں یہی فرق ہے۔ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جرنل مشرف کے پناہ لینے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف سیدھے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے پاس جا پہنچے ۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ ” میاں نواز شریف عدالت میں پیش ہوتے رہے، کبھی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے قوم نے دیکھایا کون کتنے پانی میں ہے، تاہم انہوں نے بتایا کہ جنرل مشرف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ نہیں ہوا“۔ لیکن قرائن بتاتے ہیں امریکہ چین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت جنرل پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دلوانے کیلئے سفارتی محاذ پر سرگرم عمل ہیں۔پاکستانک کے دوست ممالک انہیں عدالتی کارروائی سے بچا کر بیرون ملک لے جانے کیلئے کوشاں ہیں اگرچہ حکومتی حلقوں کی طرف سے اس بات پر اصرار کیا جارہا ہے جنرل مشرف کو بیرون ملک بھجوائے جانے کے بارے میں کوئی ملکی یا غیر ملکی دباؤ نہیں تاہم ایک اعلی حکومتی عہد یدار نے کہا کہ جنرل مشرف کا ملک سے باہر چلے جانا ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ پہلے ہی ملک کو کئی مسائل کا سامنا ہے ۔ حکومت کو اپنی تمام تر توجہ ان مسائل کے حل کی طرف مبذول کرنی چاہئے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر خلیفہ النہیان اور سعودی عرب کے وزیر کارجہ سعود الفیصل کا دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے جب سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل سے ان کے دورہ پاکستان کے بارے میں دریافت کیا گیا تو وہ طرح دے گئے کہ ” وہ کسی مشن پر پاکستان آئے ہیں اور نہ ہی ان کی اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں جنرل مشرف کا معاملہ زیر بحث آیا، مشرف کا کیس پاکستان کا اندرونی معاملہ ے اور وہ دوستی ، تعاون اور ہر موسم میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا پیغام لے کار آئی ہیں۔ “ لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے کہا ہے این آر او - 3تیا کیا جارہا ہے این آر او 1- کے تحت میاں نواز شریف کو جدہ بھجوایا گیا تھا جب کہ این آر او 2- کے تحت آصف علی زردادی کو معافی ملی اب این آر او 3-کے تحت اسی طرح جنرل مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل جائے گی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سید منور حسن نے کہاہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو ملک سے باہر جاکر علاج کرانے سے خود ہی انکا ر کردینا چاہئے تاکہ وہ اپنے خلاف الزامات کا دفاع کر سکیں۔ لیکن کچھ ” سیاسی اور غیر سیاسی قوتیں “ اس کیس کو منطقی انجام سے بچانا چاہتی ہیں۔ سابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر بابر اعوان اس بات پر مصر ہیں کہ پرویز مشرف آئندہ چند روز میں ڈیل کر کے بیماری کی حالت میں باہر چلے جائیں گے۔ جنرل ّر) پرویز مشرف کو بیرون ملک بھجوانے کیلئے ان کا فرم ہاؤس ڈیل کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے ۔ اہم وفاقی اور صوبائی وزراء کے ساتھ ساتھ ایک سابق وزیر خاجہ بھی سرگرم عمل ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین جہاندیدہ اور خاموش طبع سیاست دان ہیں وہ بہت کم بولتے ہیں لیکن جب بات کرتے ہیں تو اسکا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ انہون نے جنرل مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت غداری اک مقدمہ چلانے پر احتجاج کیا او کہا ہے کہ اس سے پوری دنیا کو کیا پیغام جائے گا کہ پاکستان کا آرمی چیف غدار نکلا ہے؟ آرٹیکل 6کے حوالے سے ان کا کہنا ہے لفظ ” ہائی ڈویژن“ کا غلط ترجہ کیا جارہا ہے۔ مقدمہ میں ان کی خلاف غداری کے الزام کی بجائے آئین شکنی کا لفظ استعمال کیا جانا چاہئے، اگر پرویز مشرف کا ٹرائل کرنا ہی ہے تو پھر 12اکتوبر 1999ء سے کیا جائے ۔ اگر چہ لفظ ہائی ڈویژن کی تشریح کرنا اب عدالت کا کام ہے تاہم چوہدی شجاعت نے اگلے ہی روز آئین کے آرٹیکل 6میں ترمیم کا بل بھی سینیٹ میں پیش کردیا ہے۔ مشرف بلا شبہ اب حکومت اور خصوصی عدالت کی گرفت سے نکل کر فوج کے طبی ادرے میں زیر علاج ہیں مگر ابھی تک کسی فوجی ترجمان نے جنرل مشر ف کے بارے میں وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھی۔ اس سے ان شکوک و شبہات کو تقویت مل رہی ہے کہ فوج اپنے اس ” سابق جرنیل“ کو اس مقدمہ میں بطور فریق (مدعا علیہ) بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔ بہر حال وزارت دفاع کے سیکرٹری لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یاسین ملک نے کہ اہے کہ سابق اآرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے خلاف عدالت میں زیر سماعت مقدمہ سے فوج کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی خصوصی عدال کے ججوں میں کوئی فوجی مامور ہے۔ یہ سراسر ایک عدالتی معاملہ ہے جو عدالت میں ہی چل رہا ہے۔ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آ ف کارڈیالوجی کا شمار دنیا کے بہترین امراض قلب کے ہسپتالوں میں کیا جاتا ہے، جہاں لوگ باہر سے آکر بھی علاج کرواتے ہیں۔ اب دیکھا یہ ہے کہ جنرل مشرف خود کو عدالت انصاف کی رضا پر چھوڑ دیتے ہیں یا اپنے لئے خصوصی رعایت طلب کرتے ہیں؟ میڈیکل رپورٹ کے بارے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد ہی جنرل پرویز مشرف کے آئندہ عزائم کا اندازہ لگایا جاسکے گا۔